HomeHome  GalleryGallery  SearchSearch  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

 میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا

Go down 
AuthorMessage
shafaq malik
Newbie


Female Number of posts : 12
Age : 33
Registration date : 2008-11-04

PostSubject: میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا   Wed Jan 07, 2009 10:33 am

میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھ
دُکھی تھے وہ بھی، سو میں اپنے دکھ بھلا بیٹھا
سنی جو شہرتِ آسودہ خاطری میری
وہ اپنے درد لئے، میرے دِل میں آبیٹھا
بس ایک بار غرورِ اَنا کو ٹھیس گی
میں تیرے ہجر میں دستِ دُعا اٹھا بیٹھا
خُدا گواہ کہ لُٹ جاؤں گا، اگر میں کبھی
تجھے گنوا کے تیرا درد بھی گنوا بیٹھا
ترا خیال جب آیا تو ہوا محسوس
قفس سے اُڑ کے پرندہ شجر پہ جا بیٹھا
سزا ملی ہے مجھے گردِ راہ بننے کی
گناہ یہ ہے کہ میں کیوں راستہ دِکھا بیٹھا
کٹے گی کیسی اس انجامِ ناشناش کی رات
ہوا کے شوق میں جو شمع ہی بُجھا بیٹھا
مجھے خُدا کی خُدائی میں یہ ہوا محسوس
کہ جیسے عرش ہو کوئی دوسرا بیٹھا
Back to top Go down
View user profile
M. Waqas Jan
Admin
avatar

Male Number of posts : 914
Age : 28
Registration date : 2008-10-29

PostSubject: Re: میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا   Wed Jan 14, 2009 4:58 pm

so deep poetry...

thanx for sharing it aapi.

_________________
ShayiriOnline
Back to top Go down
View user profile http://shayirionline.blogspot.com
 
میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: ShayiriOnline :: Your Favourite Poetry-
Jump to: